21 اپریل 2013 - 19:30
بوسٹن بم دھماکے، امريکي سناريو اور حقيقت

انٹرنيٹ پر جاري ہونے والي بعض فوٹيج ميں امريکي شہر بوسٹن ميں ہونے والے بم دھماکوں ميں اس ملک کے خصوصي سيکورٹي اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف کيا ہے-

ابنا: ہيکٹيوازم  کے نام سے  انٹرنيٹ سرونگ کرنے والي ايک ٹيم نے بوسٹن بم دھماکوں کے حوالے سےکچھ فوٹيج جاري کي ہيں اور يہ دعوي کيا کہ  دھماکے کے  اصل ملزم يہ ہيں اور انکا تعلق امريکہ کي اسپيشل فورس سے  ہے-ھيکٹيو ازم کے مطابق اس نے يہ تصاوير ٹوئيٹر پر سي بي ايس کے اکاونٹ کو ہيک کرکے حاصل کي ہيں-سي بي ايس کے حکام نے بھي اس بات کي تصديق کي ہے کہ اسکے پروگراموں، سکسٹي منٹ، فورٹي ايٹ آور اور سي بي ايس ڈينور کے علاوہ اس چينل کے رسمي اکاؤنٹ ہيک کئے گئے ہيں-تصاوير ميں دو مشتبہ افراد کو دکھايا گيا ہے جنہوں نے امريکي اسپيشل فورس کي وردي پہن رکھي ہے اور ان ميں سے ایک کی  ٹوپي پر کھوپڑي جيسا نشان بنا ہوا ہے-کہا جارہا ہے کہ يہ نشان امريکي اسپيشل فورس کے دستے سيل ٹيم تھري کا ہے  اور کچھ وقت تک اسے بدنام زمانہ بليک واٹر کمپيني بھي استعمال کرتي رہي ہے-  علاوہ ازيں بم دھماکے کے وقت قريبي عمارت کي چھت پر پورے اطمينان کے ساتھ ٹہلنے والے شخص کي فوٹيج بھي ڈيلي ميل سميت بعض اخبارات کي توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہيں-امريکي حکام نے تاحال ان تصاوير پر کوئي ردعمل ظاہر نہيں کيا ہے-واضح رہے کہ  امريکي پوليس نے دعو کيا تھا کہ اس نےبوسٹن بم دھماکوں ميں ملوث ايک شخص کو زخمي حالت ميں گرفتار کرليا ہے جبکہ دوسرا شخص اس کاروائي کے دوران ہلاک، ہوگيا ہے-دونوں ملزمان سگے بھائي تھے اور ان کا تعلق چيچنيا سے بتايا جاتا ہے.

.....

/169